
باتھ روم میں فنگس کے مسئلے سے نجات حاصل کرنے کے لئے، ایک سادہ سا چھتیلے والا ہیٹر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ باتھ روم میں موجود انفراریڈ لیمپوں کو صرف شاور سے باہر آنے کے بعد جسم کو گرم رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن دراصل ان کا استعمال فنگس سے لڑنے کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ اپنی چھت پر ایسا ہیٹر لگاتے ہیں، تو آپ صرف ہوا کو گرم کرنے ہی نہیں، بلکہ دیواروں اور فرش کے ان حصوں کو بھی گرم کرتے ہیں، جہاں فنگس پنپتا ہے۔ یہ کیوں کام کرتا ہے؟ عام ہیٹر تو صرف ہوا کو گرم کرتا ہے، لیکن دیواریں اب بھی ٹھنڈی رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے پانی کے قطرے بنتے ہیں، جس کی وجہ سے باتھ روم میں نمی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن انفراریڈ ہیٹر ایسا نہیں کرتا۔ یہ براہ راست دیواروں پر توانائی بھیجتا ہے، جس کی وجہ سے دیواروں پر موجود پانی کے مولیکیول تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں۔ اگر دیواریں گرم اور خشک رہیں، تو فنگس کے بیجوں کو وہاں پنپنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ یہی بات ہے۔ خبردار! آپ ان ہیٹروں کو کہیں بھی نہیں لگا سکتے۔ چونکہ یہ بہت طاقتور ہیں، اس لئے ان کی مناسب جگہ کا انتخاب بہت اہم ہے۔ ہم عموماً کوارٹز گلاس کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ نمی ان ہیٹروں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ لیکن پھر بھی ان کی مناسب اونچائی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ بہت نیچے ہو، تو یہ بہت گرم ہو جائے گا۔ اگر بہت اوپر ہو، تو کمرہ خشک نہیں ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ مناسب جگہ کا انتخاب کیا جائے۔ اسے کیسے استعمال کریں؟ عموماً یہ ہیٹر لائٹ سوئچ یا ٹائمر سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہم ہمیشہ نمی سے محفوظ خول کا استعمال کرنے کی سفارش کرتے ہیں، ورنہ اندرونی حصے سڑ جائیں گے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ، اگرچہ یہ ہیٹر شروع میں تھوڑی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، لیکن انہیں روایتی ہیٹروں کے مقابلے میں بہت کم وقت تک چلانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح آپ کو پورا دن بجلی جلاتے رہنے کی ضرورت نہیں، اور باتھ روم بھی خشک رہتا ہے۔